babycarecatpic

پہلی بار ماں بننے والی خاتون کی مکمل ایک کہانی۔۔۔۔۔۔خود ان کی زبانی

“پہلی بار ماں بننے والی خاتون کی مکمل ایک کہانی۔۔۔۔۔۔خود ان کی زبانی”

(ماں (ایک مکمل احساس)

Birth is the beginning; not the end….

آنسو تھے کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اتنی بڑی خوشی کو کیسے سنبھالوں ۔یہ وہ وقت تھا جب طبعیت کے کچھ ناساز ہونے پر میں نے بس یونہی home pregnancy testکرلیا تھا۔ اور چونکہ پچھلے کئی برس سے یہ ٹیسٹ ایک ہی رزلٹ دیتا آرہا تھا (یعنی کہ negative) تو اس بار بھی کوئی خاص امید نہیں تھی ۔مگر دل کو اطمینان تھاکہ جو ہوگا وہ بہتر ہی ہوگا۔ اور اللہ کے کرم سے اس دفعہ positiveتھا۔یعنی کہ میں conceiveکرچکی تھی۔تین سال پہلے ایک حمل ضائع ہو چکا تھا۔ اس لئے یہ خوشی میرےلئے اتنی بڑی تھی جس کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن ہے۔

احتیاطالیبارٹری سے بھی ٹیسٹ کروالیا اور رپورٹ لے کر جب ڈاکٹرکے پاس گئی تو انہوں نے مزیدٹیسٹ کی لمبی لسٹ پکڑادی۔ الٹراساونڈ کی رپورٹ دیکھ کے ڈاکڑ نے کہا کہ

کرے گا بھی یہ نہیں۔ابھی کچھ کہ نہیں سکتے۔Continue یہ تو خالی سیک ہے،پتہ نہیں

pregnancyبس یہ تھا میری

کا پہلا امتحان۔ بہت عجیب سی بات لگی کہ جب ٹیسٹ پازیٹو ہے ۔ ایچ’سی’جی کے لیول بھی ہائی ہیں تو الٹراساونڈ میں کیوں نہیں آرہا۔

اور پھر میں نے وضاحت کے لئے جب ڈاکٹر سے پوچھا کہ

تو ہے نا۔ تو اس خاتون نے تسّلی دینے کے بجائے کہا کہ ” کوئی فیٹس ویٹس نہیں ہے ابھی” ۔ بس پھر خوب روئی کہ یہ کیا ہورہا ہے۔Fetus

مگر میری ڈاکٹر نے تسّلی دی اور کہا کہ ایک ہفتے کے بعد دوبارہ الٹراساونڈ کروائیں گے۔ اور پھر سب ٹھیک آیاالحمدللہ۔پچھلی مس کیرج کی وجہ سے ڈاکٹر نے اسکارڈ ٹیبلیٹ تو پہلے دن سے شروع کرادی تھی۔ جوکہ خون پتلا کر تی ہے*۔ اور جن کو یہ مسئلہ ہو کہ بچےکا اور ماں کا خون کا گروپ الگ الگ ہو یہ

کا ٹیسٹ صحیح نہ آئے تو ان کو دی جاتی ہے۔ اور حالانکہ میرا ٹیسٹ ٹھیک تھا پھر بھی ڈاکٹر نے یہ دوا دےدی۔ اسکے علاوہ اور بھی Anticardiolipin

طاقت کی دوائیں دی اور غذا کے ساتھ آرام شروع ہوگیا۔

مگر چوتھے ہفتے میں ایک انتہائی بیوقوفی سر زد ہو گئی ۔ اوروہ یہ کہ بڑے مزے سے پائے کھالئے۔ بس پھر کیا تھا ۔ ۴سے ۵ گھنٹے کے بعد سپاٹنگ شروع ہو گئی۔ پھرپریشانی شروع ہو گئی کہ اب کیا ہوگا۔ اور یہ اس لئے بھی تھی کہ پچھلی دفعہ اسپاٹنگ کے بعد ہی مس کیرج ہوئی تھی۔اس لئے خوف ستانے لگا۔اگلے دن جب ڈاکٹر کے پاس گئی تو انہوں نے کچھ ڈرایا اور کچھ تسلی دی۔فورا کچھ دوائیں دی{جس میں آئی وی ایف کے انجیکشن،

شامل تھی}شروع کرادی۔Suppository and duphaston

ڈاکٹر کو شک تھا کہ شاید کسی انفیکشن کی وجہ اسپاٹنگ شروع ہوئی ہے۔اس لئے مزید ٹیسٹ ،الٹراساونڈ دے دیا۔ مگر الحمدللہ سب کلیر آیا۔دوا اور آرام کے ساتھ دعا کی تو آرام آگیا۔اور اسپاٹنگ ۳ہفتوں میں ختم ہوگئی۔

Full story can be read on 2daypakistan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>